کاروار 27؍جولائی (ایس او نیوز)ریاست میں کانگریس کی جگہ پر مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے اور اراکین اسمبلی کے بدل جانے سے کاروارانکولہ حلقے میں 12کروڑ روپے اور بھٹکل حلقے میں 10.55کروڑ روپے لاگت کے سڑک تعمیری منصوبے ادھورے رہ جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
اصل میں الیکشن قریب آتے دیکھ کر اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں میں زیادہ سے زیادہ نئے تعمیری منصوبے منظور کروانے کی کوشش کی تھی۔ فنڈ منظور ہونے کے بعد انتخابی ضابطۂ اخلاق لاگو ہوجانے کی وجہ سے کام کا آغاز نہیں ہوسکا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق نئی میعاد کے لئے کاروار اور بھٹکل میں بی جے پی امیدواروں کی جیت کے بعد سابقہ کانگریسی اراکین اسمبلی کی طرف سے منظور کروائے گئے منصوبوں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اسے یونہی ادھورا چھوڑا گیا ہے۔ کمٹہ میں جو کروڑوں روپے منصوبے منظور ہوئے تھے اس میں سے بیشتر کی تکمیل ہوچکی ہے ۔جبکہ سرسی میں سابقہ رکن اسمبلی کی دوبارہ جیت کی وجہ سے وہاں پر منظور کیے گئے پرانے منصوبوں کو مسترد کیے جانے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے افسران سابقہ منصوبوں پر عمل در آمد کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں الجھن میں پڑے ہوئے ہیں ۔افسران اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کام شروع کرنے کی اجازت موجودہ اراکین اسمبلی دیں گے یا انکار کردیں گے ، کیونکہ سابقہ اراکین اسمبلی نے جن علاقوں کے لئے منصوبے منظورکروائے تھے اب موجودہ اراکین اسمبلی کی جانب سے انہیں تبدیل کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے اسٹیٹ ہائی وے مرمت وتعمیرکے ضمن میں ہوناور تعلقہ کے کاسرگوڈ، ہوسپٹن، کلسین موٹے، امبیگر کیری میں پل اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے تقریباً 160لاکھ روپے کے ٹینڈر طلب کیے گئے تھے، لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔اس کے علاوہ گنونتے، ایڈ گنجی، مالکوڈ، ہیگار، نگر بستی کیری، ماگوڈ جیسے مقامات کے لئے بھی کروڑوں روپے لاگت کے منصوبے کے ٹھیکے دینے کاکام ادھورا پڑا ہے۔اسی طرح بھٹکل تعلقہ کے ماروکیری، بینگرے، گولی کومبری، ماولّی اتر کوپّا، کنٹوانی، سرپن کٹے وغیرہ میں سڑکوں کی درستی اور تعمیر کے کام ادھورے رہ گئے ہیں۔، جس کا کل تخمینہ 12کروڑ روپے بتایا جاتا ہے۔